بانی اکیڈمی

حضرت والا کی ذاتِ گرامی نہ صرف  ہندوستان بلکہ بیرون ممالک کےعلمی حلقوں میں بھی محتاجِ تعارف نہیں  ،اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے شمار کمالات سے نوازا ہے ، آپ انتہائی ظریف الطبع،دریا دل، سادہ مزاج، نہایت ذکی و ذہین  ، نکتہ آفریں ہونے کے ساتھ   علم و عمل اور اخلاص کے پیکر ہیں نیز علمی فضل وکمال کے ساتھ وعظ و تبلیغ میں یکتائے روزگار ہیں۔

نام و نسب وولادت ومقام:

آپ کا نام محمد نوال الرحمن ابن غلام محمد ابن حسین  ہے۔آپ کی ولادت  پاسپورٹ میں درج شدہ  تفصیلات کے مطابق ۲۰ جولائی ۱۹۵۸ کو ہوئی۔

آپ کا آبائی وطن مغل گدہ ہے،تعلقہ شاد نگر،ضلع محبوب نگر ہے،وہاں سے آپ حیدرآباد منتقل ہوئے،اولا قاضی پورہ میں چند سال قیام رہا،اس کے بعد یوسف نگر ٹپہ چبوترہ آپ کی مستقل قیام گاہ رہا۔

تعلیم:

 آپ نے حفظ ِقرآن مجید اپنے آبائی مقام مغل گدہ  میں حافظ خلیل اللہ صاحب ؒکے دست مبارک پر سوا سال میں مکمل کیا۔

درسِ نظامی کی ابتدائی تعلیم مدرسہ مصباح العلوم لاتور میں حاصل کی،اس وقت اس کے ناظم  قطبِ دکن حضرت شاہ عبد الغفور صاحب قریشی نور اللہ مرقدہ تھے،اس  مدرسہ میں آپ کا داخلہ گویا الہامی داخلہ تھا ،جس کا واقعہ حضرت شاہ عبد الغفور صاحب کی سوانح میں لکھا ہواہے کہ والد محترم کے ساتھ تاجان حضرت شاہ محمدجمال الرحمن صاحب دامت برکاتہم بھی وہاں کے داخلہ کے لئے نکلے، دادا جان نور اللہ مرقدہ بھی ساتھ تھے،وہاں پہنچنے سے قبل ہی حضرت شاہ عبد الغفور قریشی صاحب ؒ کو الہام ہواکہ دو طالب علم داخلہ کے لئے آرہے ہیں ،ان کا داخلہ کرلیاجائے ،اگرچہ داخلہ تو اسی وقت ہوچکا تھا لیکن وہاں پہنچ کر داخلہ کی رسمی کارروائی مکمل کی گئی۔

اس کے بعد شرح جامی سے حضرت اقدس مولانا مسیح اللہ خان صاحب نوّراللہ مرقدہ کی زیر تربیت  درس ِنظامی اورافتاء تکمیل فرمائی ،اگرچہ آپ کا داخلہ دارالعلوم دیوبند میں ہوچکا تھا،لیکن چند عوارض کے پیش نظر مفتاح العلوم جلال آباد کا آپ نے رخ کیا۔

 اساتذہ:

آپ نے جن اساتذہ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا ہے ان میں سے چندمشہور اور معروف اساتذہ کے نام یہ ہیں :

حضرت اقدس مولانا مسیح اللہ خان صاحب نور اللہ مرقدہ

حضرت مولانا یسین صاحب نور اللہ مرقدہ

حضرت مولانا نصیر احمد خان صاحب نور اللہ مرقدہ

حضرت مولانا واجد حسین صاحب نور اللہ مرقدہ

حضرت مولانا عقیل الرحمن صاحب دامت برکاتہم

تصوف وتزکیہ :

راہِ احسان و سلوک میں آپ  کا تعلق مسیح الامت حضرت مسیح اللہ خان صاحب  رحمۃ اللہ علیہ سے رہا ہے،اورزمانہ ٔطالب علمی ہی سے آپ کوحضرت کی صحبت  کا شرف حاصل ہے، اور بلاناغہ آپ حضرت کی مجالس سے  مستفیدہوتےرہے، اور پھرنصابِ تعلیم سے فراغت کے بعد چھ ماہ حضرت  کے یہاں قیام فرما کر بیعت و ارشاد کے ذریعہ تزکیہ و احسان کی دولت سے مالامال ہوئے ۔

وہاں سے واپسی کے  بعد دکن  کی بلند پایہ عظیم شخصیت جامع السلاسل ،سلطان العارفین آپ کے والد ماجد حضرت شاہ صوفؔی غلام محمد صاحب  نوّراللہ مرقدہ وبرد مضجعہ  خلیفہ حضرت شاہ محمد حسین صاحب ؒ ناظم ونپرتی( پیر بھائی حضرت مناظر احسن گیلانی) نے چاروں سلاسل میں  آپ کو   خلافت سے سرفراز  فرمایا ۔

بعد ازاں حضرت مسیح الامت سے بھی اجازت کااشارہ ملا ، لیکن رخت سفر باندھنے سے قبل ہی حضرت مسیح االامت ؒ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے،اس کے بعد با ضابطہ مسیح الامت کے خلیفہ حضرت ڈاکٹر تنویر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نےآپ کو اجازت عطا فرمائی ،اور اس کا پس منظر خود ڈاکٹر تنویر احمد خان صاحبؒ نےبیان کیا ہےکہ حضرت مسیح الامت نے خواب میں حضرت ڈاکٹر صاحب کو اس کا حکم دیا تھا۔

درسی ودینی خدمات :

تحصیل و تکمیل کے بعد مسندِ درس پر فائز ہو کر تشنگان علوم کو سیراب کرنے لگے ،چنانچہ دارالعلوم سبیل السلام (جو اُس وقت مہدی پٹنم ،حیدرآبادمیں واقع تھا) کے اولین مدرسین میں سے آپ کا شمار ہوتا ہے، پھر آپ نے جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد میں  قرآن و حدیث اور فقہ کی بڑی بڑی کتابوں کا دورۂ حدیث و افتاء میں بڑی مقبولیت کے ساتھ  درس دیا ،اور منصبِ صدارت پر بھی فائز رہے،اورآپ کی دارالعلوم میں خدمات تقریبا ۱۸ سال رہی،کتاب و حکمت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ نے وعظ و ارشادکے ذریعہ بھی اپنے فرضِ منصبی کو بخوبی انجام دیا ،جس سے ہزاروں بندگانِ خدا میں انقلاب و دینی بیداری پیدا ہوئی،بعدازں آپ نے چند احباب کی درخواست پر  ۱۹۹۲امریکہ کا سفر کیا اوراسی وقت سے تاحال  (تقریباً چھبیس  سال) سے وہیں مقیم  ہیں، اور وہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت والا سے ایسا کام لیا ہے کہ جس کی نظیر ان جیسے ملکوں میں بہت ہی کم دیکھنے میں آتی ہے۔

جامعہ احیاء العلوم :

امریکہ سفر سے قبل ۱۹۹۲ میں اپنی قیام گاہ کے قریب جامعہ احیاء العلوم کی بنیاد  بھی رکھی ،جس میں ذکور اور اناث کے لئے حفظ و ناظرہ کے علاوہ شعبۂ عالمیت میں بھی  دورہ تک تعلیم جاری ہے،عمارت  کی توسیع نہ ہونے کے سبب طلبہ کی تعداد محدود ہے،تاہم پھر بھی اس میں اقامتی وغیر اقامتی چار سو سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

رحمت عالم فاؤنڈیشن اور دارالعلوم شکاگوکا قیام:

امریکہ میں حضرت والا نے اولاًرحمتِ عالم فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی، جس کے تحت مسلمان لڑکیوں کو بے دینی اور بےحیائی کے ماحول سے بچانے اور دینی تعلیم سے آراستگی کے لیے دارالعلوم شکاگوقائم کیا،اور وہاں پر حیدرآباد اور دیگر مقامات کےعلماء کرام  کو جمع کیا ،جو اگرچہ دیگر مصروفیات میں مشغول تھے،لیکن حضرت کی اس تحریک کو قبول کیا ،مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی، شعبۂ حفظ و ناظرہ  اور شعبۂ عالمیت مکمل قائم  کیا گیا، اسی میں آپ شیخ الحدیث بھی ہیں ، الحمد للہ اس سے ہزاروں طلبہ نے استفادہ کیا اور استفادہ کررہے ہیں ۔

گائیڈینس اسکول :

اس کے علاوہ دنیوی علوم سے وابستہ افراد کی ذہن سازی اور دینیات سے قریب کرنے کے لئے دینی ماحول  کے ساتھ ایک عصری اسکول موسوم بہ گائیڈنس اسکول قائم کیا ۔اور الحمد للہ اسکولی تعلیم  بھی اسلامی ماحول کے ساتھ روبہ ترقی ہے۔

شریعہ بورڈ آف امریکہ:

عوام الناس کی رہبری اور لوگوں کے عائلی مسائل کے حل کےلئے  شریعہ بورڈ آف امریکہ کا قیام عمل میں لا یا گیا،جس میں بنیادی شعبہ دار الافتاء والقضاء ہے،الحمد للہ اس کے تحت سینکڑوں مقدمات میں یکسوئی کی گئی،اور ہزاروں کی تعداد میں آن لائن اور مقامی فتاویٰ جاری کئے جاچکے ہیں، اور پھر ضرورت اور تقاضوں کی بنیاد پر امریکہ ،  نیویارک ،کیالیفورنیا اور ہندوستان میں  شریعہ بورڈ کی کئی شاخیں قائم کی گئیں ۔

ذبیحہ سپروائزری بورڈ:

اسی طرح وقت کا ایک اہم تقاضہ سامنے آیا ،بالخصوص امریکہ جیسے ماحول میں اس بات کی سخت ضرورت محسوس ہونے لگی کہ لوگوں میں  حلال و حرام کی پہچان ،حرام سے اجتناب  ،اور حلال کے اہتمام  کا شعور بیدار کیا جائے،چنانچہ اس کے لئے    ذبیحہ سپروائزری بورڈقائم کیا گیا،اور الحمد للہ اس میں  بڑی کامیابی حاصل ہوئی ،اور سو سے زیادہ شاپس شریعہ بورڈ کی جانب سے مصدقہ ہیں ،اور ہزاروں  لوگ انہی  مصدقہ دوکانوں سے گوشت کی خریداری کا اہتمام کرتے ہیں ۔

رؤیت ہلال کمیٹی:

چاند کے سلسلہ میں لوگوں کی بے اعتدالی  اوربے راہ روی  کےپیش نظر رویت ہلال کمیٹی قائم کی گئی، اورالحمد للہ ہر ماہ رؤیت کا اہتمام کیاجاتا ہے،اور اس کے بعد ادارہ کی جانب سے اس کا علان کیا جاتا ہے،بفضلِ الٰہی تقریباسارے امریکہ میں  شریعہ بورڈ کی رؤیت انتہائی اہمیت کی حامل مانی جاتی  ہے۔

تصانیف:

ان مصروفیات کے سبب آپ نے اگرچہ تصنیف کی طرف توجہ نہیں فرمائی، لیکن بندہ نے خود حضرت کی زبانی یہ سنا تھا کہ حضرت مسیح الامت ؒ آپ کی انشاپرداز صلاحیتوں کے معترف تھے۔

چونکہ آپ کےخطابات   انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، جس کے بڑے بڑے علماء بھی معترف ہیں، اس لئے ان سے استفادہ کی عمومیت کے پیش نظر شریعہ بورڈ آف انڈیا  نے ان کی ترتیب کا کام شروع کیا ،اور الحمد للہ اب تک آپ کے متعددافادات زیور طبع سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں ، جن کی فہرست درجِ ذیل ہے:

 (۱)درسِ عقیدۃ الطحاوی ۔ (۲)موضوعاتی درس ِقرآن سورۂ فاتحہ ۔ (۳)موضوعاتی درس ِقرآن سورۂ رحمن۔ (۴)موضوعاتی درس ِقرآن آیۃ الکرسی ۔(۵)تذکیراتِ جمعہ جلد اول و دوم ۔(۶)فتنے اور اختلافات۔

وعظ و ارشاد :

اداروں کی  ان ذمہ داریوں  کےعلاوہ  آپ کے  دینی، دعوتی اور اصلاحی بیانات ،اسفار کی کثرت ،تزکیۂ نفوس کی مجالس  اور دروس قرآن کے حلقےآپ ہی کا خاصہ ہے،خاص طورپر حق تعالیٰ نے آپ پرعلوم تصوف کو منکشف فرمایا ہے،اور آپ کی اصلاحی مجالس انتہائی اہمیت کی حامل اور تصوف کے علوم اور اصطلاحات سے لبریز ہوتی ہیں ،اور اندازِ بیان سادہ اور دلکش ہونے کے سبب  سامعین بھی ان علوم سے کافی محظوظ ہوتے ہیں ، اور اپنی باطنی پیاس بجھاتے ہیں۔

اور بتوفیق ایزدی دعوت و تبلیغ سے بھی آپ  کو خاصی انسیت حاصل ہے،اور ملک و بیرون ملک بھی آپ کے اسفار مسلسل جاری  رہتے ہیں ،خاص طور پر آپ کا ہندوستان کا سفر بھی انہی اسفار کی نذر ہوجاتا ہے،اور باری تعالیٰ کا آپ پریہ خاص کرم ہے کہ ان ساری مصروفیات کے باوجود تقریبا چالیس سال سے آپ کا چہل روزہ دعوتی سفر ترک نہیں ہوا۔حق تعالیٰ ہمیں آپ کی قدر کی توفیق نصیب فرمائے،اور صحت و عافیت کے ساتھ آپ کا سایہ تادیر ہم پر قائم رکھے۔(آمین)

اکیڈمی میں داخلہ کے لئے یہاں کلک کریں